بنگلورو،13؍ فروری ( ایس او نیوز ؍ صد یق آلدوری) ریاستی اسمبلی میں پیش کردہ جانوروں پر مظالم تدارک ترمیمی پر بحث کے بعد اس میں پیش کردہ نکتہ کمبلا تہوار کو اجازت دینے ایوان نے اتفاق رائے سے منظوری دے دی ۔ وزیر برائے مویشی پالن اے منجو نے ایوان میں جانوروں پر مظالم تدارک ترمیمی بل کو بحث اور منظوری کے لئے اسمبلی میں پیش کیا اور یہ اجازت دے دی گئی کہ ریاست کے ساحلی اضلاع جنوبی کینرا اور اُڈپی میں منائے جانے والے بیلوں کی کیچڑ میں دوڑ ، پیرادوڈ اور بیلوں کی ریس کو اجازت دی جائے۔ اپوزیشن لیڈر جگدیش شٹر نے اس بحث میں حصہ لے کر کہا کہ عدالتیں نظام حکومت کا ایک حصہ ہیں انہیں ریاست اور ملک کی تہذیب اور روایات کو دھیان میں رکھ کر ہی عوامی مفاد میں کوئی فیصلہ سنانا پڑتا ہے۔ اگر صدیوں سے چلی آرہی روایت کے خلاف کوئی حکم صادر کیا جاتا ہے تو عوام کا برہم ہونا لازمی ہے اور حکومت کو عوامی برہمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے حال ہی میں تمل ناڈو کی عدالت نے جب ایسا فیصلہ لیا تو وہاں کیا حالات پیش آئے اس کا ہر ایک کو اندازہ ہے لاکھوں افراد نے متحد ہو کر جلی کٹو تہوار کو منظوری دینے کے مطالبہ میں تحریک چلائی تھی۔ جانوروں پر رحم کھانے والی پیٹا جیسی تنظیمیں عدالتوں میں رٹ عرضی داخل کردیتی ہیں اس لئے حکومتوں کے لئے ضروری ہے کہ اس علاقہ کی روایت اور تہذیب کو بحال رکھنے کے سلسلہ میں مناسب قانون مرتب کرے۔ بی جے پی رکن گوند کارجول نے کہا کہ کمبلا ، بیل گاڑیوں دوڑ سمیت 3؍ طرح کے روایتی کھیلوں کو جاری رکھنے کے سلسلہ میں یہ بل ایوان میں لایا گیا ہے اسی طرح سے شمالی کرناٹک میں کارو ہنومے تہوار کے موقع پر جو روایتی کھیل منعقد ہوتے ہیں جیسے گرابنڈی کھیل، ٹگرا کالا میلہ کھیل کو بھی اسی دائرہ میں لایا جائے ۔ کے جے پی کے رکن بی آر پاٹل نے کہا کہ بھگوان ، دھرم کے نام پر جانوروں کو ذبح کیا جاتا ہے ان کی بلی چڑھائی جاتی ہے۔ ایوان میں موجود چند اراکین گوشت خور ہیں تو کچھ سبزی خور اور لوگوں کے اس کھانے کے مزاج کو بدلا نہیں جاسکتا ہمارے علاقہ کے ببا لادی مقام پر شراب کو تیرتھا کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے ۔اور یہ رواج یہاں 500؍ سال سے جاری ہے تو اس وقت ایوان میں ہنسی کے فوراے پھوٹ پڑے۔ اسپیکر کے بی کو لی وارڈ نے اس پر جواب دیا کہ بھگوان نہ گوشت خور ہے اور نہ ہی شراب استعمال کرتے ہیں یہ سب عوام کا اعتقاد ہے بھگوان پر الزام دینا مناسب نہیں ہے ۔ دیگرا اراکین اسمبلی نے ایوان میں مطالبہ کیا کہ ان تین کھیلوں پر عائد اسٹے ارڈر ہٹانے کے لئے اقدامات ضروری ہیں۔ کمبلا جیسا دیہی چنا پدا کھیل جاری رکھنا ہے لیکن ساتھ ہی گؤ کشی کے معاملہ کو لے کر کچھ لوگ عوام کے جذبات بھڑکارہے ہیں لیکن صرف گائے کی جان اہم نہیں ہے بھگوان اور دھرم کے نام پر استعمال کئے جارہے جانوروں کی بھی جان ہے۔ ان کی جان لینے کا سلسلہ بند کیا جائے تو بی جے پی رکن باپیا نے سوال کیا کہ آئندہ گوشت کے استعمال پر ہی پابندی لگانی ہے۔
*ایوان میں بل کی منظوری کے بعد اب ساحلی کرناٹک میں کمبلا منانے کی آزادی ملنے والی ہے۔
*28؍ جنوری کے کابینہ اجلاس میں حکومت نے جانوروں پر مظالم قانون میں ترمیم کے لئے بل ایوان میں پیش کی گئی تھی ۔
*کرناٹک ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ نے ماہ نومبر میں عدالت میں کمبلا کے تعلق سے داخل کردہ رٹ عرضی پر اسٹے آرڈر جاری کیا تھا۔
*30؍جنوری کے عدالت نے کہا تھا کہ وہ سپریم کورٹ میں جلی کٹو سے متعلق فیصلہ کے بعد اپنا فیصلہ سنائے گی ۔ پیٹا ادارہ نے کمبلا کی مخالفت میں قانونی جنگ شروع کی تھی۔